والدین کس طرح بچے کو سمجھائیں کہ کورونا وائرس کیا ہے

والدین کس طرح بچے کو سمجھائیں کہ کورونا وائرس کیا ہے، یہ کتنا خطرناک ہے اور اس سے کیسے بچنا چاہیئے۔ بچے بچے ہوتے ہیں، چیزیں اپنی طرح سے سمجھتے ہیں۔کورونا وائرس یا کووڈ 19 کی عالمی تباہی کی لپٹ میں ہر کوئی ہے۔ جن لوگوں کو یہ نہیں لگی وہ اس کے خوف میں رہ رہے ہیں اور یہ خوف بالکل حقیقی ہے جس سے کوئی فرار نہیں۔ یہ وبا دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل رہی ہے اور چین سے لے کر امریکہ تک متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ فی الوقت اسے روکنے کا اگر کوئی طریقہ ہے تو وہ ہے خود کو روکنا، مطلب اپنے روز مرہ کی عادات میں تبدیلی لانا۔ اس میں ہاتھ دھونے سے لے کر ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے لے کر ان جگھوں پر اکٹھا ہونا شامل ہے جہاں مجمع زیادہ ہے۔ جتنا کم گھر سے نکلیں اتنا ہی بہتر ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ کم ملنے سے محبت کم نہیں ہو رہی بلکہ اپنا اور دوسرے کا بھلا ہو رہا ہے۔
پر یہاں سب سے بڑا مسئلہ والدین، خصوصی طور پر کام کرنے والے والدین کا ہے کہ کس طرح بچے کو سمجھائیں کہ یہ وائرس کیا ہے، کتنا خطرناک ہے اور اس سے کیسے بچنا چاہیئے۔ بچے بچے ہوتے ہیں، چیزیں اپنی طرح سے سمجھتے ہیں اور ہر کوئی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ تو پھر ہم بچوں کو کیسے بتائیں؟
زیادہ تر بچوں نے اس وائرس کے متعلق پہلے ہی سنا ہو گا یا انھوں نے لوگوں کو ماسک پہنے چلتے پھرتے دیکھا ہو گا۔ سو والدین کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اس پر بات کرنے سے ہچکچائیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جس طرح والدین بچے کو اس کی صلاحیت کے مطابق کوئی خبر سمجھا سکتے ہیں شاید دوسرے نہیں سمجھا سکتے۔ وہ آپ کی بات سنتا، سمجھتا اور سوال کرتا ہے
اپنے بچوں کو کہیں کہ اگر وہ اس وائرس کے متعلق آپ سے کچھ جاننا چاہتے ہیں تو وہ ضرور پوچھیں۔ ضروری نہیں کہ بہت زیادہ ڈرانے والی ہی معلومات دی جائیں لیکن پھر بھی سچ بولتے ہوئے انھیں اس کے متعلق بتایا جا سکتا ہے کہ اسے عالمی وبا کیوں کہا گیا ہے اور کیوں یہ اس وقت دوسری بیماریوں سے زیادہ

Comments

Popular posts from this blog

عطر کی خصوصیات۔فوائد اور دنیا کے بہترین عطر

وباء محفوظ رہنے کیلئے اور اس سے نجات پانے کیلئے درود تنجینا کے ورد کا اہتمام کریں

کرونا وائرس متأ ثرین کی تعداد مزید بڑھ گئی دیکھئے